*رونگٹے کھڑے کر دینے والی تحریر*
( ایسی تحریر آپ کو کہیں نہ ملے گی محفوظ رکھیے )
" *موبائل کی تباہ کاریاں* "
جس قدر نقصان ہمیں ، ہمارے معاشرے ، ہمارے دین ، ہمارے ذہنوں ، ہماری اقدار، ہمارے بچوں، ہماری صحت کو موبائل نے پہنچایا ہے بلاشبہ کسی اور چیز نے نہیں پہنچایا۔ یہ صرف الفاظ نہیں حقیقت ہے۔ مکمل یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ جس قدر گناہ اور نقصانات آج اس موبائل سے ہو رہے ہیں اور کسی چیز سے نہیں ہو رہے۔ جتنا یہ موبائل قبر و آخرت کو برباد کر رہا ہے اور جہنم میں جانے کا باعث بن رہا ہے اتنی دوسری کوئی چیز بھی نہیں۔ جس کی ایک جھلک یہ تحریر ضرور دکھا دے گی، اگرچہ یہ جہاں اس سے بھی کہیں بھیانک ہے۔ لیکن پردہ ضرور اٹھ جائے گا۔ مزید ہر کسی کا اپنا نصیب۔ درج ذیل ہر ایک نکتہ اس قدر وسیع برے اثرات رکھتا ہے کہ ایک مکمل کتابچہ اور مضمون تشکیل پائے، لیکن یہاں اختصار سے کام لیا گیا ہے کہ اصل مقصد سے توجہ نہ ہٹ جائے۔ ہر ایک مستقل درد دل ہے، کاش اس درد کو محسوس کیا جائے۔
*1۔ غیبت :*
اول اس گناہ کو ذکر کرنے کی وجہ اس کی سنگینی ہے۔ جس قدر یہ کبیرہ گناہ ہے اسی قدر اس سے لاپرواہی ہے۔ اپنے مردہ بھائی کے گوشت کھانے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ ہماری ہر محفل اس سے رچی بسی ہوئی ہے۔ نہ صرف دنیادار بلکہ دینداروں کی مجالس و گفتگو بھی اس سے خالی نہیں۔ موبائل کی وجہ سے اس میں جس قدر اضافہ ہوا ہے الامان و الحفیظ۔ کالز میسجز اسی سے پر رہتے ہیں۔ پھر خاص اہتمام کے لیے سستے پیکجز متعارف کروائے جاتے ہیں۔ بعض حضرات نے اس گناہ کو زنا سے بھی بڑھ کر فرمایا ہے کہ یہ حقوق العباد میں آتا ہے، اور قیامت والے دن اس وقت تک معاف نہ ہوگا جب تک وہ خود معاف نہ کرے جس کی غیبت کی گئی، یا اپنی نیکیاں اس کو نہ دے دیں۔ معاشرے کا یہ ناسور اور عظیم گناہ ہماری گفتگو کا اکثر حصہ ہے۔ کبھی محاسبہ کرتے ہوئے اپنی کالز کی ریکارڈنگ سنیے۔ آدھے سے زیادہ وقت فقط غیبت پر مشتمل ہوتا ہے۔
*2۔ فحاشی :*
فحاشی کا تذکرہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ ڈرامے، فلمیں، گانے، عریانی، ننگی فلمیں، جنسی بے پردگیاں، بے حیائی، ناچ، گندے تنگ مختصر لباس غرض فحاشی کی کونسی چیز نہیں جو اپنی آخری حدوں کو نہ چھو رہی ہو۔ ہمارے نوجوان کیسی کیسی بے راہ روی کا شکار ہو چکے ہیں۔ شرم و حیا ورثے سے ختم ہوگیا۔ وہ مناظر جو تیس سال قبل باپ بیٹی کے سامنے دیکھ نہ سکتا تھا، آج اس سے سو گنا غلیظ چیزیں خود بیٹیوں کو فراہم کی جاتی ہیں۔ ہماری بہن بیٹیاں فقط میڈیا پر عریاں ہو کر ناچنے والی بن گئی ہیں۔ موبائل کی وجہ سے یہ سب چیزیں ہمارے ہر جوان و نوجوان کی دسترس میں ہر تنہائی میں بھی میسر ہیں۔ اس سے جو تباہی آ سکتی ہے اس کا اندازہ ہر ذی شعور لگا سکتا ہے۔ وہ کونسی فحاشی ہے جو موجود نہیں!
*3۔ جھوٹ :*
اس موبائل کی وجہ سے جھوٹ کی اس قدر بہتات ہوئی کہ اب ہمیں یہ جھوٹ اور گناہ محسوس ہی نہیں ہوتا۔ بے دھڑک جھوٹ بولنا ایک عادت ہے۔ ہماری گفتگو، میسجز، چینلز، میڈیا، نجی گفتگو ہر چیز حقیقت سے ہٹی ہوئی یعنی سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ کال نہ اٹھانا اور بے دھڑک کہہ دینا کہ موبائل سائیلنٹ پر تھا، غلط جگہ بتانا کہ میں اس وقت فلاں جگہ پر ہوں، جھوٹی پروفائلز بنانا، اپنی زندگی کا ایسا اظہار جو حقیقت نہیں، بغیر تحقیق جھوٹی معلومات بھیجنا۔ الغرض اگر غور کیا جائے تو جھوٹ کی ایک پوری دنیا آباد ہے، بلکہ یہ جہاں اور ہمارے اعمال اس قدر جھوٹ پر قائم ہو چکے ہیں کہ سچ کو تلاش کرنا ہی انتہائی مشکل کام ہو گیا ہے۔ جس کی وجہ سے حق کی اہمیت بھی ختم ہو چکی ہے اور عظمت بھی۔ جھوٹ نے حق اور باطل کو ایک جیسا کر دیا ہے۔ اس موبائل کی وجہ سے ہر انسان اس بھیانک شیطانی عمل میں اپنا اپنا حصہ ملا رہا ہے۔
*4۔ پیسے کی بربادی :*
جس قدر مال اس موبائل کے متعلق ضائع اور استعمال کیا جا رہا ہے دنیا میں کسی اور چیز پر نہیں۔ اس نے ایسے ایسے کنجوس لوگوں کی جیبوں میں سے بھی پیسہ نکلوایا ہے جنہوں نے کبھی اسے ہوا بھی نہیں لگوائی۔ مہنگے سے مہنگا موبائل خریدنا، اس کے متعلقہ آلات خریدنا، کال پیکجز لگانا، انٹرنیٹ پیکجز لگانا، موبائل تبدیل کرنا، مہنگے موبائلز خریدنے کے لیے اشتہارات کے ذریعے اکسانا، مختلف برانڈز کی تشہیر، گھر کے ہر فرد کے لیے ایک علیحدہ موبائل ہونا، موبائل پر مختلف چیزیں خریدنا، مختلف قیمتی اور مہنگی ایپس حاصل کرنا، گیمز پر پیسہ لگانا اور شرائط پر کھیلنا۔ اس کے علاوہ بیسیوں اور مواقع ہیں جو فقط موبائل کی وجہ سے مال ضائع کروا رہے ہیں۔ اس موبائل کی لعنت ہمارا آدھا نہیں تو چوتھائی بجٹ ضرور ضائع کروا رہی ہے، حالانکہ دین اسلام میں فضول خرچی کو بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔
*5۔ بدنظری :*
ایک انتہائی اور انتہائی سنگین گناہ بدنظری کا ہے۔ ہماری روحانی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ گناہ ہے۔ حتی کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ محفوظ فرمائے اس کی وجہ سے ایمان تک چھین لیا جاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی غیرت سے متعلق گناہ ہے۔ موبائل نے اس گناہ میں جتنی آسانی پیدا کر دی ہے شاید کسی اور میں نہیں۔ اب ساری دنیا کی گندگی آپ کی تنہائی میں آپ کے ساتھ ہے۔ وہ مناظر جو ہمارے بڑے شادی شدہ ہونے کے باوجود ساری زندگی نہ دیکھ سکتے تھے آج چھوٹے چھوٹے بچے ان سے کئی گنا غلیظ بدنظری میں مبتلا ہیں۔ ایسی ایسی عادتیں بیماریاں اور لتیں سامنے آ رہی ہیں کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جائے۔ جنہیں زبان پر لانے سے نہ صرف شرم آئے بلکہ دل میں سیاہی محسوس ہو۔ جن کے سامنے کچھ حقائق ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس موبائل کے باعث ہم انسانی معاشرے میں نہیں بلکہ پیشاب پاخانے اور پیپ کی غلاظت سے بھرے گٹر میں رہ رہے ہیں جہاں سانس لینا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو چکا ہے۔
*6۔ گانے، فلمیں، ڈرامے :*
گانے سننے والے کے کانوں میں قیامت کے دن سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا، اور وہ جنت کی موسیقی سے محروم رہے گا۔ گانا زنا کا منتر ہے، لیکن آج کس کو اس کی پروا ہے! موسیقی اور اس کے آلات ہر جیب میں موجود ہیں، اور گناہ تو دور، اب اسے ناپسندیدگی سے بھی نہیں دیکھا جاتا۔ گانے، فلموں، ڈراموں نے معاشرے میں شیطانی بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔ ہر جگہ میوزک چھایا ہوا ہے، چاہے وہ فلم، ڈرامہ، تشہیر، خبر، یا حتیٰ کہ نعت ہو۔ قرآن مجید کو بھی ایسی طرز میں پڑھا جا رہا ہے جو موسیقی جیسی لگتی ہے۔ نوجوان کانوں میں آلات لگا کر میوزک سنتے ہیں، اور کئی بار ایسی حالت میں موت واقع ہو جاتی ہے۔ موبائل پر نہ صرف گانے سنے جاتے ہیں بلکہ سکھائے بھی جاتے ہیں۔ یہ سب کھلی بغاوت ہے۔
*7۔ وقت کی بربادی :*
وقت ایسی دولت ہے جس کی اہمیت کا اندازہ جنت کے اس افسوس سے ہوتا ہے جو یادِ الٰہی کے بغیر گزرے وقت پر ہوگا۔ کروڑوں روپے سے قیمتی وقت ہم یوں ضائع کر رہے ہیں جیسے ردی ہو۔ ہمیں وقت گزارنے نہیں بلکہ بنانے کے لیے بھیجا گیا ہے، مگر موبائل نے ہمارا وقت اس طرح کھا لیا ہے جیسے آگ خشک پتوں کو کھا لیتی ہے۔ دینی یا دنیاوی کام کے لیے مصروفیت کا بہانہ، لیکن موبائل پر وقت ضائع کرنے کے لیے فرصت ہی فرصت۔ اگر ہم اس کا کچھ حصہ اللہ کی یاد میں لگا لیں تو آخرت سنور سکتی ہے۔ ایک مہینہ موبائل چھوڑ کر دیکھیں، زندگی کی رونقیں لوٹ آئیں گی۔ وقت میں بے برکتی (کہ جمعہ سے جمعہ کب آ گیا پتہ ہی نہیں چلتا) کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی موبائل ہے، جو دن رات کے فرق کو مٹا کر زندگی کو بھاگ دوڑ تک محدود کر چکا ہے۔
*8۔ مساجد میں موسیقی :*
مساجد اللہ کے گھر ہیں، لیکن اب وہاں بھی اس موبائل کی نحوست سے میوزک بج رہے ہیں۔ اکثر اوقات نماز کے دوران کسی نہ کسی کی رنگ ٹون بج جاتی ہے جو کہ پوری طرح میوزک ہوتا ہے۔ تمام نمازیوں کی نماز خراب ہو جاتی ہے۔ مساجد میں اللہ سے یکسوئی سے دل لگانے کے بجائے بھی فون پر باتیں ہو رہی ہوتی ہیں۔ خدا سے اتنی حیا بھی نہ رہی کہ ہم مسجد میں موسیقی بجنے کا سبب بن رہے ہیں۔
*9۔ نامحرم سے تعلقات :*
پہلے وقتوں میں یہ کام کافی مشکل تھا۔ اب ہر لڑکا لڑکی آپس میں رابطہ کر سکتے ہیں۔ کسی کو کانوں کان خبر ہی نہیں ہوتی۔ باتیں ہو رہیں، میسج ہو رہے، نئے نئے دوست بنائے جا رہے، ملا جا رہا، ملنے کی دعوتی ایپس بنائی اور پھیلائی جا رہیں، زنا ہو رہا، گھر برباد ہو رہے۔ اور جب کہا جائے کہ یہ گناہ ہے تو جواباً یہ سننے کو ملتا ہے کہ جی ہم کونسا برائی میں ملوث ہیں؟ العیاذ باللہ یعنی نامحرم سے رابطہ اور تعلق کو گناہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔ یاد رکھنا بات چیت اور ملنا ملانا تو دور کی بات ہے جب تم میسج کرنے کے لیے ایک حرف کو تین دفعہ بٹن دبا کر ٹائپ کرتے ہو تو انگوٹھے کے تین زنا اعمال نامہ میں لکھ دیے جاتے ہیں۔ اپنا قیامت کے دن کا محاسبہ خود کر لینا۔
*10۔ لڑکے لڑکیوں کا بھاگ جانا :*
آج کل کثرت سے سننے میں آ رہا ہے کہ فلاں کی لڑکی فلاں کے لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی۔ یہ پہلے تو شاذونادر ہی سننے میں آتا تھا۔ لیکن اس موبائل کی لعنت نے اس چیز کو عام کر دیا ہے۔ ابھی تو یہ ہے پھر عنقریب ہر گھر سے ہر نوجوان بھی بھاگنے والا اور من مرضیاں کرنے والا بن جائے گا۔ یہ سب موبائل فونز کی بہتات کے نتائج ہیں۔ والدین اپنی جوان بچیوں کو خود مہنگے مہنگے موبائلز خرید کر دیتے ہیں۔
*11۔ برائیوں کی تشہیر :*
اس موبائل کی وجہ سے نا صرف مختلف بلکہ تمام برائیوں کی تشہیر بڑے زور وشور سے ہوتی ہے۔ فحاشی، میوزک جیسی برائیوں کے علاوہ معاشرے میں موجود ہر برائی کو ہر کسی تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس سے بعض اوقات وہ برائی دوسروں میں بھی منتقل ہو جاتی ہے۔ جب برے کاموں کی تشہیر اچھے انداز میں کی جائے گی اور اس پر دنیاوی فوائد دکھائے جائیں گے، مثلاً ننگے ناچ اور ان پر ملنے والی مقبولیت اور پیسہ اور شہرت، تو ہمارے بچے اور بچیاں بھی ڈانس کرتے اور ایکٹر بنتے نظر آئیں گے۔ ڈراموں میں شادی شدہ لڑکے لڑکیوں کے باہر دوسرے لڑکے لڑکیوں سے تعلقات دکھائے جاتے ہیں جس سے ہمارے گھروں میں بھی یہ چیز آ رہی ہے۔ نشے کی عادتیں، غلط دھندے، جعلسازی ڈاکہ زنی غرض ہر برائی کے نمونے ہر کسی کی جیب میں ہیں۔
*12۔ غلط مثالی کرداروں کی گمراہی :*
ہر انسان کے لیے کوئی نہ کوئی مثالی کردار یعنی آئیڈیئل ہوتا ہے۔ ہمارے پچھلوں کی کوشش ہوتی تھی کہ کوئی اچھا نیک انسان ہمارے بچوں کا آئیڈیئل ہو۔ جس طرح انبیاء کرام صحابہ یا ہمارے تاریخی بڑے مسلمان سلاطین۔ آج کل ہمارے نوجوانوں کے آئیڈیئل یا کوئی فلمی اداکار ہے، یا کوئی گانا گانے والا، یا سیاست دان، یا اسی طرح کے اور کردار۔ ہمارے بچے انہی کی نقل کرتے کرتے اخلاقی گراوٹ کی کھائیوں میں گر چکے ہیں۔ ایسی ہیجانی کیفیت ہے کہ نہ وہ والدین کی مانتے ہیں نہ کسی اور بڑے کی سنتے ہیں۔ سکرین پر کسی بھی شخص کو ہیرو بنا کر پیش کرنا کچھ بھی مشکل نہیں، چاہے وہ کتنا ہی گرا ہوا انسان ہی کیوں نہ ہو، اور نوجوانوں کے ذہن چونکہ کچے ہوتے ہیں اس لیے آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔
*13۔ دینی شکل میں فتنے :*
اس تحریر میں موبائل کے جتنے گناہ، نقصانات اور تباہ کاریاں بیان کی گئی ہیں ان سب میں خطرناک ترین، سنگین ترین، بدترین اور سب سے بڑی تباہی یہ ہے۔ جہاں دین سے دور کرنے کے دیگر ذرائع اپنائے جا رہے ہیں، یہاں دین کے قریب کرنے کی شکل میں دور کیا جا رہا ہے۔ بڑی بڑی داڑھیوں پگڑیوں اور جبوں قبوں کے ساتھ نامی گرامی شخصیات موجود ہیں جو دین کے عقائد و مسائل میں اپنے زعم میں غلطیاں نکالتے ہیں۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان کے پیچھے ہے۔ جو جس کو سنتا ہے اسی کو صحیح راستے پر سمجھ لیتا ہے۔ نئی نئی باتیں، نئی اصطلاحات، نئی تشریحات، نئے فلسفوں، نئی تحقیقات کے نام پر وہ اودھم مچا ہوا ہے کہ الامان و الحفیظ۔ کہیں عقائد پر حملہ، کہیں مسائل پر، کہیں اکابر پر، کہیں سلف صالحین پر، کہیں بدعات تو کہیں الحاد۔ جو اپنی نامکمل اور ناقص عقل میں آیا اس کو تحقیق کا نام دے کر اہل حق سلف صالحین سے کاٹا جا رہا ہے۔ شاید اسی وقت کے بارے میں فرمایا گیا تھا کہ علم سے ہی گمراہ کریں گے اور تمہارے پچھلوں کو غلط کہیں گے اور لعن طعن کریں گے۔ ہم اور ہمارے نوجوان چونکہ محنت کے عادی نہیں لہذا موبائل پر گھر بیٹھے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے جس کو سنا اس کے پیچھے لگ گئے۔ بعض فتنے اس قدر خطرناک ہیں جو ایمان سے ہی خارج کر دیں۔ اس موبائل کی وجہ سے ہر ایسا فتنہ ہر ایک کی دسترس میں آ چکا ہے۔ کوئی بھی مسلمان کسی بھی وقت کسی فتنے کا شکار ہو سکتا ہے۔
*14۔ غلط معلومات کا عام ہونا :*
ہر خبر ہر چیز بلا تحقیق اور بغیر تصدیق کے یوں بے دھڑک آگے سے آگے بھیجی جا رہی ہے جیسے یہ واقعی حقیقت یا سو فیصد سچی اور اکابر اور بڑوں کی تصدیق شدہ ہے۔ حالانکہ اس میڈیائی دنیا میں پچانوے فیصد چیزیں غلط ہیں۔ اس موبائل کے باعث غلط علم و معلومات کا وہ طوفان بدتمیزی چل رہا ہے کہ جھوٹ سچ پر غالب ہو چکا ہے۔ فقط دینی اعتبار سے ہی نہیں، دنیاوی اعتبار سے بھی ہر میدان میں تقریباً یہی صورتحال ہے۔ ہر چیز کو اپنے ہی ایک نئے رنگ میں پیش کیا جاتا ہے۔ حتی کہ زندگی ہی ایک جھوٹ معلوم ہونے لگی ہے، کسی بھی چیز پر اعتبار آنا مشکل ہو چکا ہے۔
*15۔ نوجوانوں میں غیروں کے رواج :*
غیروں یعنی غیر مسلموں کی عادات، رسم و رواج، رہن سہن، ملنے جلنے کے انداز، تفریح کے انداز، لباس، تعلیمات حتی کہ ان کے مذہبی افعال بھی ہماری نئی نسل میں دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ اور اس کی شدت کم نہیں بلکہ بہت تیزی اور جرات کے ساتھ سرایت کر چکے ہیں۔ ہمارے بچوں کو وہی چیزیں پسند ہیں جو سکرین پر دیکھتے ہیں۔ اور تو اور ہمارے نوجوان اپنے بنیادی عقائد میں اس قدر کمزور ہیں کہ بعض اوقات ہندؤوں جیسے ہاتھ جوڑتے ہیں، صلیب پہنتے ہیں، مدد کے لیے کسی دیوتا کا نام لے لیتے ہیں۔ بعض اوقات تو مذاق میں (حالانکہ مذاق میں بھی حرام اور کفر ہے) اور بعض اوقات سچ مچ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے چھوٹے بچوں کو ہندؤوں کے بھگوانوں کے نام تک یاد ہیں۔ اور اب پیچھے کیا بچا ہے؟ یہ سب موبائل کی وجہ سے انتہائی تیزی سے وقوع پذیر ہو رہا ہے۔
*16۔ دین اور عقائد و مسائل میں تشکیک اور ہلکا پن :*
باطل کا ایک بڑا ہتھکنڈا دین اسلام کی تعلیمات میں شک پیدا کرنا اور ان کو عام سی باتوں کی طرح ہلکا بنانا ہے۔ یہ آج سے نہیں شروع دن سے ہی کوشش رہی ہے۔ آج یہ کام جتنی آسانی سے ہو رہا ہے پہلے نہ ہوا۔ اس کی وجہ ہر شخص تک باطل کی رسائی ہے جو موبائل کے ذریعہ ممکن ہوئی۔ آج ہمیں اپنے عقائد اور خدا اور رسول ﷺ کی باتوں پر اتنا یقین نہیں ہے جتنا سائنس اور ٹیکنالوجی پر ہے۔ امت کے بڑے بڑے اکابر اور اسلاف کہ جو علم دین میں کمال کے درجے کو پہنچے ہوئے تھے کے بیان کردہ مسائل و احکام کو عام آدمی کی رائے قرار دیا جاتا ہے۔ خدائی وعدوں پر نہ صرف بے یقینی ہے بلکہ ان سے بیزاری نظر آتی ہے۔ دینی اکابر اور شخصیات کے متعلق ہلکا پن پیدا کرنا تو اس موبائل کے ذریعہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
*17۔ بے جا تصاویر اور ویڈیوز :*
تصویر جو کہ دین اسلام میں حرام قرار دی گئی ہے، موبائل کے ذریعے بلا خوف خدا ہر وقت بے دھڑک بلا ضرورت بنائی جا رہی ہیں۔ کسی کو احساس ہی نہیں کہ یہ گناہ ہے۔ حتی کہ ایسے فتووں کا سہارا لے کر جائز قرار دیا جا رہا ہے جن کو سمجھا بھی نہیں گیا۔ حالانکہ وہ ڈیجیٹل تصویر کے ہونے نہ ہونے کے اختلاف میں ہیں۔ باوجود اس کے جمہور کی رائے اس کے حرام ہونے کی ہے۔ اور جو اجازت دیتے بھی ہیں وہ بھی صرف انتہائی مجبوری کے وقت۔ آج ہمارے موبائلز خود سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز سے بھرے ہوئے ہیں۔
*18۔ بلیک میلنگ (راز کھولنے کی دھمکی) :*
موبائل کی لعنت کے باعث بڑی آسانی سے یہ کام آج کثرت سے ہو رہا ہے۔ دوستی میں، اچھے تعلقات میں، ہیکنگ (ڈیٹا چوری کر کے) یا کسی بھی طریقہ سے بلیک میلنگ کے ذریعے پیسہ لوٹنا، عزت لوٹنا، ناجائز باتیں منوانے جیسے واقعات کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ دوستی میں شوق شوق میں اول تو اپنی ہر چیز کھول دی جاتی ہے، ہر راز، ہر دشمنی، حتی کہ اپنا جسم تک کھول دیا جاتا ہے اور بعد میں پھر پچھتاتے ہیں۔ کسی کی کسی کے متعلق کال ریکارڈ کر لی، کسی کے میسج محفوظ کر لیے، ہماری کتنی بہن بیٹیاں بلیک میلنگ کا شکار ہو رہی ہیں۔ وہ راز جو پہلے سینوں میں رہتے تھے آج ہمارے موبائلوں میں رہنے لگے ہیں۔
*19۔ نجی باتوں کا افشا ہونا :*
موبائل کے باعث آج لوگوں کی پرائیویٹ (نجی) زندگی کی شرمناک حرکات سامنے آ رہی ہیں۔ کبھی تو کوئی دوسرا بنا لیتا ہے، مگر اکثر اوقات خود اپنی نجی زندگی کی تصاویر اور ویڈیوز بنائی جاتی ہیں جو بعد میں سامنے آنے پر اپنے ہی گلے کا پھندہ بن جاتی ہیں۔ نجی زندگی کے علاوہ اپنی گھریلو زندگی کو ظاہر کرنا، بلکہ باقاعدہ خود چینلز بنا کر اپنے گھر کی عورتوں کو عیاں کرنا معمول بن چکا ہے۔ فقط چار پیسوں اور شہرت کے لیے ہماری بیٹیاں سب کے سامنے ناچ رہی ہیں۔ اپنے گھر کے معمولات بتانا، روزمرہ کی زندگی دکھانا، حتی کہ بعض دیندار بھی عورت کے چہرے پر نقاب کروا کے ویڈیوز بناتے ہیں جیسے یہ کوئی عیب کی بات ہی نہیں۔
*20۔ قرآن، دینی کتب، دینی مصروفیات سے دوری :*
جس طرح موبائل نے ہمارا وقت عام طور پر برباد کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ خاص عبادت کے اوقات اور ذرائع کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ اوقات میں قرآن پاک کی تلاوت کرنا یا دینی کتب سے استفادہ کرنے کی بجائے اب وہ سارا وقت موبائل میں صرف ہوتا ہے۔ توجہ بھی دلائی جائے تو کہہ دیا جاتا ہے جی یہ سارا قرآن اور دینی کتب اب موبائل میں موجود ہیں۔ کہاں وہ قرآن اور کتب کے انوار و برکات اور کہاں اس غلیظ موبائل میں یہ چیزیں! اسی لیے نہ ان میں برکت ہے نہ نور ملتا ہے نہ عمل کی توفیق۔ بلکہ ان کتب یا قرآن کو کون پڑھتا ہے موبائل پر، دوسری لغویات میں ہی وقت صرف ہوتا ہے۔
*21۔ لایعنی اور فضول گپ شپ :*
جہاں اتنے بڑے بڑے گناہوں کا خیال نہیں کیا جاتا، لایعنی کو کون نظر میں رکھے گا؟ ہر شخص چاہے جس عمر کا ہے جس شعبے کا ہے اس کی پسند کا کچھ نہ کچھ اس موبائل میں موجود ہے۔ لگا ہوا ہے ہر کوئی دن رات فضولیات میں۔ ایسی چیزیں ایسی باتیں ایسی ایپس ایسی خبریں ایسی معلومات جن سے نہ دنیا کا فائدہ نہ دین کا۔
*22۔ قریب والوں سے دوری :*
کہتے ہیں موبائل سے فاصلے ختم ہو گئے اور اپنوں کے قریب ہو گئے۔ حالانکہ حقیقت اس کے الٹ ہے۔ ایک گھر میں رہتے ہوئے بچے والدین سے کٹ گئے، والدین بچوں سے، بہن بھائیوں کی خبر تک نہیں ہوتی۔ ہر انسان کی موبائل کی اپنی ایک دنیا ہے۔ بعض اوقات تو پورا پورا دن، دو دو دن گزر جاتے ہیں ایک ہی گھر میں بچوں کی والد سے بات تک نہیں ہوتی۔ تھوڑی دیر موبائل سے دور رہ لیں تو ایک بے چینی سی ہونے لگتی ہے۔
*23۔ سودی (حرام) معاملات میں ملوث ہونا :*
موبائل پر آج کل بیسیوں ایسے معاملات اور چیزیں ہیں جو سراسر سودی اور حرام ہیں۔ مثلاً آنلائن ٹریڈنگ (تجارت)، مارکیٹنگ، پری مارکیٹنگ، بینکی لین دین وغیرہ۔ ہمارے اکثر افراد بغیر کسی سے پوچھے اور شرعی راہنمائی لیے ان میں ملوث ہو چکے ہیں۔ جب کہا جائے تو خود مفتی بنتے ہوئے کہتے ہیں ہم نے کون سا پیسہ لگایا اس میں یہ تو جائز ہے۔ حالانکہ ان میں سے ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد حرام اور سودی ہیں۔ کسی کو پرواہ ہی نہیں کہ ہم خدا کے خلاف اعلان جنگ کر چکے ہیں۔ پھر آخر دنیا میں بھی ذلت ہی ملتی ہے۔ آخرت کا معاملہ تو رہا سو رہا۔
*24۔ جوے میں شمولیت :*
آنلائن جوے کھیلے جاتے ہیں۔ بہت سی ایسی ایپس ہیں جو باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں اور عالمی جوے باز ان میں جوا کھیلتے ہیں۔ ہمارے بہت سے مسلمان بھی اس گھناؤنے فعل میں شریک ہیں۔ حتی کہ بعض گیمز پر بھی جوے لگتے ہیں جس میں ہمارے بچے تک شامل ہو جاتے ہیں۔
*25۔ سوشل میڈیا کا بےجا استعمال :*
ہر وقت سوشل میڈیا پر ایکٹو رہنا ایک نئی بیماری ہے۔ واہی تباہی جو آ رہا ہے آگے بھیجا جا رہا ہے، کہا جا رہا ہے، سنا جا رہا ہے۔ نہ کوئی حدود نہ قواعد۔ ایک مکھی بھی ماریں تو سوشل میڈیا پر شیئر کی جاتی ہے۔ دنیاوی جھوٹی معلومات کی بھرمار تو ہے ہی آج ہم دینی علم تک نعوذباللہ اسی میڈیا سے سیکھتے ہیں۔ ہر وقت اپنے دائرہ کار کی چیزیں اور پوسٹس دیکھتے رہنا اور دکھاتے رہنا بس یہی ہمارے نوجوانوں کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا ہے۔
*26۔ غلط تحریکوں کا جنم لینا :*
نوجوانوں کو اکسانا چونکہ انتہائی آسان ہوتا ہے اسی چیز کو استعمال کرتے ہوئے باطل پیچھے گھر بیٹھے مختلف غلط اور اپنے ایجنڈے کے مطابق تحریکیں برپا کر رہا ہے۔ گویا یہ موبائل باطل کا آلہ ہے جو ان کی ہدایات کی ترسیل کا کام کرتا ہے۔ ان تحریکوں میں بعض ایسی شدید کر دی جاتی ہیں جو پورے کے پورے ملک کے نظام کو الٹ پلٹ کر دیتی ہیں۔ ایک قوم کو مغلوب دوسری کو غالب کر دیتی ہیں۔ امن و امان کے نظام کو تباہ کر دیتی ہیں۔ نظریات اور مذہب تک بدل دیتی ہیں۔
*27۔ ریا :*
ریا کو چھوٹا شرک قرار دیا گیا ہے۔ اس سے بچنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ شیخ کامل کی مکمل صحبت کے بغیر اس کے حملے سے بچنا ناممکن ہے۔ آج موبائل کے ذریعے اپنی عبادات کو بھی مکمل طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ گناہ دنیاداروں کے ساتھ ساتھ دینداروں میں بھی انتہائی شدید درجے میں پایا جاتا ہے۔ کروڑوں میں کوئی ایک آدھ ہوگا جو اس سے بچ سکے۔ نماز پڑھنے کی، وضو کرنے کی، روزہ رکھنے کھولنے کی، کسی غریب کی مدد کرنے کی، دوسرے کو نصیحت کرنے کی، بیان کرنے کی، تبلیغ کرنے کی، حج کرنے کی، زکوٰۃ دینے کی، صدقہ دینے کی، دعا کروانے کی، کسی عالم سے ملنے کی غرض ایک ایک چیز کی نمائش کی جاتی ہے۔ دل میں یہی ہوتا ہے کہ مجھے کتنے لوگوں نے پسند کیا کتنوں نے مجھے فالو کیا۔ غالب گمان یہ ہے کہ ہمارا اب ایک بھی عمل صرف رضائے الٰہی کے لیے اور چھپا ہوا نہیں ہے۔
*28۔ مقابلہ بازی ، حسد :*
ہر چیز میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنا اور آگے بڑھنے کے لیے ہر حیلہ چاہے جائز ہو یا ناجائز، استعمال کیا جاتا ہے۔ اپنی شہرت بڑھانے کے لیے، دوسروں سے زیادہ ویوز لینے لائیکس لینے اور امیر دکھنے کے لیے نا جانے کیا کیا کیا جاتا ہے۔ ہر چینل دوسرے سے بڑھ جانے کے چکر میں ہے۔ اپنی زندگی کا حقیقی رخ دکھانے کی بجائے ایک جزوی پہلو بڑھا چڑھا کر دکھایا جاتا ہے۔ حتی کہ بعض اوقات اس کا اظہار بھی ہوتا ہے اور کئی دل دہلا دینے والے واقعات رونما ہوتے ہیں، مثلاً بہیمانہ قتل تک کے وقوعہ جات ہونا۔ حسد کو بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ یہیں سے کینہ، بغض و عداوت، عناد، دشمنیوں، نفرتوں اور لڑائیوں کے سلسلے بھی معاشرے میں جاری ہیں۔ میرا موبائل ایسا، اس کا کیمرہ ایسا، اس کا پروسیسر فلاں کے موبائل سے اچھا، اس کی آواز بہتر، میری پوسٹ زیادہ اچھی، میرا کمنٹ زیادہ قابل توجہ، وغیرہ وغیرہ وغیرہ ایک لا متناہی سلسلہ ہے۔
*29۔ حب جاہ اور حب مال :*
دونوں ہی انتہائی خطرناک روحانی بیماریاں ہیں۔ آج ہر شخص ہی ان کا شکار ہے۔ موبائل کے باعث ان کو ایسی ہوا ملی ہے کہ ان میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ مشہور ہونے اور پیسہ کمانے کے لیے کیا سے کیا کچھ نہیں کیا جاتا؟ کہیں بچوں کے ذریعہ یہ کام ہے، کہیں بہن بیٹیوں کو بے پرد کر کے نچایا جا رہا ہے، کہیں گھریلو زندگی عیاں کی جا رہی ہے، کہیں تعلیم و تعلم کو ذریعہ بنایا جا رہا، کہیں معلومات بیچنے کو، کہیں دینی شکل میں اس کا حصول جاری ہے، کہیں فحاشی کے ذریعے اپنے پیچھے لگایا جا رہا، کہیں اپنے جسم کی نمائش کر کے۔ یوں لگتا ہے جیسے ساری دنیا موبائل صرف انہی دو مقاصد کے لیے خریدتی ہے۔
*30۔ بہن بیٹیوں کا بے پرد ہونا :*
موبائل نے ہماری بہن بیٹیوں کو ننگا کر دیا ہے۔ معذرت کے ساتھ کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارا طوائفوں یا کنجریوں کا معاشرہ ہے۔ میری ہی بہنیں ہیں میری ہی بیٹیاں ہیں جو سکرین کے سامنے ہر غلط حرکت کرتی ہیں۔ یہ تو ہمارے معاشرے میں کچھ روک ٹوک موجود ہے، ورنہ اگر نئی نسل کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے تو شاید یورپ بھی ہم سے شرما جائے۔ اس قدر نیچ حرکات، چند ٹکوں کی خاطر یا تعریف کے چند جھوٹے بولوں کے حصول کے لیے حیا کی چادر کو تار تار کر کے ہمارے معاشرے کی بیٹیاں خود ہی تمام حدود پار کر رہی ہیں۔ کہیں کپڑوں کی نمائش ہے، کہیں میک اپ کی، کہیں حسن کی، کہیں جسم کی، کہیں ڈانس کی، کہیں ایکٹنگ کی۔
*31۔ لت ہو جانا :*
اس پہلو کی طرف اگرچہ نظر کم ہے مگر یہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح ایک نشہ کرنے والے انسان کو نشے کی لت ہوتی ہے اور وہ نشہ نہ ملنے پر بے چین ہو جاتا ہے۔ اسی طرح موبائل آ
No comments:
Post a Comment